نئی دہلی یکم اگست (ایس او نیوز؍ پریس ریلیز) آج مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایک اعلی سطحی وفد نے لا کمیشن آف انڈیا کے چیر مین عزت مآب جسٹس بی ایس چوہان صاحب اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کی۔ یہ کمیشن کے چیر مین سے دوسری ملاقات تھی۔ یہ دونوں ملاقاتیں کمیشن کے چیر مین کی دعوت پر کی گئیں۔پہلی ملاقات میں کمیشن نے مسلم پرسنل لا سے متعلق بعض امور پر اپنے اشکالات پیش کئے تھے اور مسلمانوں کے تمام مسالک کا نقطہ نظر جاننا چاہا تھا۔ ذمہ داران بورڈ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی وضاحت کی، تاہم یہ درخواست بھی کی گئی کہ اگر یہ سوالات تحریری طور پر ہمیںدے دئے تو اس کا تفصیلی جواب تحریری طور پر فراہم کردیا جائے گا۔ چنانچہ آج کی ملاقات میں بورڈنے تحریری سوالات کا تفصیلی جواب قرآن و سنت اور اسلامی فقہ کی روشنی میں مرتب کر کے کمیشن کو فراہم کر دیا۔کمیشن نے درج ذیل امور میں وضاحتیں چاہی تھیں۔1۔ حضانت Custody of Children)) 2.تنبیت کا مسئلہ(Adoptation)3. ۔عورت کا نفقہ اور دادا کی میراث میں یتیم پوتے اور اس کی ماں کا حق4۔ وراثت میں عورت کا نصف حصہ5۔ زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ6۔ جوائنٹ فیملی سسٹم پر اسلام کا نقطہ نظر 7۔ ماڈل نکاح نامہ 8۔ مختلف مسالک کی توضیح و تشریح میں فرق۔بورڈ نے بڑی تفصیل سے قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جواب کمیشن کو فراہم کیا نیز فقہی مسالک میں جو جزوی اختلافات ہیں ان کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔ گزشتہ ملاقات میںلا کمیشن آف انڈیا کے چیر مین نے دوران گفتگو کہا تھاکہ سر دست تو ملک میں یونیفارم سول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے اور ایک تکثیری ملک میں ابھی یہ سوال غیر ضروری ہے،البتہ مختلف مذاہب کے پرسنل لا میں بعض ترمیمات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کسی پرسنل لا میں کوئی چیز معقول اور بہتر ہو تو اسے دوسرے مذہب کے پرسنل لا میں اختیار کیا جانا چاہئے۔ اس پر بورڈ کے ذمہ داران نے محترم چیر مین صاحب پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ مسلم پرسنل لا انسانوں کا وضع کردہ قانون نہیں ہے لہذااس میں ترمیم و تنسیخ کا اختیار کسی مسلمان کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہمارا ملک ایک تکثیری ملک ہے جس میں مختلف مذاہب ، کلچر اور کسٹم موجود ہیں، حکومت کا یہ کام ہرگز بھی نہیں ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی امور ، کسٹم اور رواج میں مداخلت کرے۔ جہاں تک دوسرے مذاہب کے پرسنل لاز، کلچر او رواج کا تعلق ہے وہ ان کی مذہبی کتابوں پر مبنی نہیں ہیں۔ اس کے بر عکس مسلمانوں کا پرسنل لا، رواج اور کلچر قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں، جس پر گزشتہ 1400برسوں سے عمل ہو رہا ہے۔ لہذا کمیشن حکومت ہند کو کوئی ایسی سفارش نہ کرے جس میں مسلم پرسنل ( تمام مسلکی اختلافات کے ساتھ) میں کسی ترمیم و تبدیلی کی بات کہی جائے۔ ان امور سے متعلق جنرل سیکریٹری بورڈ مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کا ایک خط بھی چیرمین کمیشن کو دیا گیا۔ حکومت ہند کو قانون سازی سے متعلق سفارشات دیتے وقت کمیشن کوئی ایسی سفارش اور تجویز نہ کرے جس سے مسلمانوںکے مذہبی تشخص اور مسلم پرسنل میں جس پر وہ برسوں سے عمل کرتے آ رہے ہیں میں کوئی ترمیم وتبدیلی ہوتی ہو۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اس سے قبل تقریباً5 کروڑ کی دستخطوں سے ایک یاداشت بھی کمیشن کو پیش کر چکا ہے ،جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ مسلمان اپنے پرسنل لا میں کوئی ترمیم و تبدیلی نہیں چاہتے۔ اس وفد میں مولانا سید جلال الدین عمری( نائب صدر، بورڈ) مولانا محمد فضل الرحیم مجددی( سیکریٹری)، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی( رکن مجلس عاملہ) ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس( رکن مجلس عاملہ) جناب کمال فاروقی( رکن مجلس عاملہ) مولانا نیاز احمد فاروقی( سیکریٹری، جمعیت علما ہند) ، مولانا مفتی محمد مکرم احمدصاحب ،شاہی امام مسجد فتح پوری ،مولانا قاری محمد یعقوب خان قادری (رکن بورڈ)، جناب ایڈوکیٹ شکیل احمد سید( رکن بورڈ)، جناب ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد (رکن بورڈ) مولانا محمد محسن علی تقوی( امام شیعہ جامع مسجد، کشمیری گیٹ) ڈاکٹر وقار الدین لطیفی (آفس سکریٹری بورڈ)موجود تھے۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس ہوئی جس سے مولانا سید جلال الدین عمری( نائب صدر، بورڈ)امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا محمد فضل الرحیم مجددی( سیکریٹری، مسلم پرسنل لا بورڈ)، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی( رکن مجلس عاملہ) و امیر کرکزی جمعیت اہل حدیث، مولانا نیاز احمد فاروقی( سیکریٹری، جمعیت علما ہند)، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس( رکن مجلس عاملہ)، جناب کمال فاروقی( رکن مجلس عاملہ)، مولانا مفتی محمد مکرم احمد، شاہی امام مسجد فتح پوری نے خطاب کیا۔